Saturday, July 15, 2023

اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو صحیح شرعی مسئلہ بتائیں

اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو صحیح شرعی مسئلہ بتائیں!

🖊️ زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ

کل بعد نمازِ عصر ایک صاحب کا فون آیا ملاقات کی درخواست کی، وہ اُس وقت اپنی دوکان پر تھے، میں مدرسہ میں کسی کام میں مصروف تھا، اس لیے دوکان پر جانے سے معذرت کرلی، تو انھوں نے مغرب بعد اپنے دولت خانے پر بلایا، میں وہاں پہونچا، بات شروع ہوئی۔

در اصل چار پانچ دن قبل اُن کی شادی شدہ بہن کا انتقال ہوا تھا (اللہ ربّ العزت ان کی مغفرت فرمائے) اُن کی پَرس میں کچھ رقم ملی تھی، وہ پوری رقم اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے ہمارے مدرسے میں تعمیری کام میں صَرف کرنے کے لیے دینا چاہ رہے تھے، اور اسی‌مقصد سے مجھے بلایا تھا۔

وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ رقم میری بہن ہی کا ہے، تو لاؤ اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے مدرسے میں لگادوں، اُن کو ثواب پہنچتا رہے گا۔ اور انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بہنوئی صاحب سے بھی بات ہوگئی ہے وہ بھی اِس پر راضی ہیں۔

مجھے یہ بات معلوم تھی کہ مرحومہ کے والد بھی باحیات ہیں، اور مرحومہ کے تین چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔

تو میں نے ان‌کو بتایا کہ آپ یہ رقم ایسے نہیں دے سکتے ہیں، اِس میں کئی لوگوں کا حصہ ہے، اُن کے درمیان یہ رقم تقسیم ہوگی، پھر اُن میں سے بالغ لوگ اپنا حصہ چاہیں تو ‌مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دے سکتے ہیں، مگر نابالغ کا حصہ نہیں دے سکتے ہیں۔

چوں کہ میں مفتی نہیں ہوں اس لیے اگر کوئی اہم مسئلہ ہوتا ہے تو معلوم ہونے کے باوجود بھی میں کسی مفتی صاحب سے پہلے سمجھ لیتا ہوں، چنانچہ میں نے ایک مفتی صاحب سے رجوع کیا۔

پھر مرحومہ کے بھائی کو میں نے بتایا کہ چوں کہ آپ کی مرحومہ بہن کے پیچھے اُن کے والد، شوہر اور تین بیٹے ہیں، اس لیے وہ پوری رقم چوبیس حصوں میں تقسیم ہوگی، پھر چھٹا حصہ یعنی چار حصے والد کو، چوتھا حصہ یعنی چھ حصے شوہر کو اور بقیہ رقم برابر برابر تینوں بیٹوں کو ملیں گے۔

اب والد اور شوہر چاہیں تو اپنا اپنا حصہ دے سکتے ہیں باقی تینوں بچوں کا حصہ نہیں دے سکتے، اس لیے کہ وہ نابالغ ہیں اور نابالغ کے مال میں کسی کو بھی تَصَرُّف کا حق نہیں ہوتا ہے۔

وہ رقم چوں کہ 5240 روپئے تھی، اس لیے والد کو چھٹا حصہ یعنی 873 روپئے، شوہر کو چوتھا حصے یعنی 1310 روپئے اور بقیہ 3055 روپئے میں سے تینوں بچوں کو برابر برابر ملے۔

اس کے بعد والد اور شوہر دونوں نے اپنے اپنے حصے یعنی 2183 روپئے مدرسے میں ایصالِ ثواب کے لیے دے دئیے۔

اگر میں انھیں شرعی مسئلہ نہ بتاتا تو وہ پوری رقم مدرسے میں دے رہے تھے۔

پھر میں نے انھیں یہ بھی بتایا کہ صرف یہی رقم تقسیم نہیں ہوگی؛ بلکہ مرحومہ نے جو بھی چھوڑا ہوگا، روپئے اور زیورات سب اسی طرح تقسیم ہوں گے۔

آخر میں انھوں نے قرآن خوانی کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا کہ یہ غلط ہے، قرآن خوانی بالکل نہ کرائیں، یہ جو مدرسے کے بچوں کو گھر پر بلوا کر قرآن خوانی کرواتے ہیں، اس کے بعد ناشتہ یا کھانے کا جو انتظام کرتے ہیں یہ بالکل غلط ہے، ایسا کرنے سے مرحومہ کو تو ثواب پہنچتا ہی نہیں الٹا قرآن خوانی کروانے والے  لوگ گناہ گار بھی ہوتے ہیں۔

اسی لیے میں اپنے مدرسے کے بچوں کو قرآن خوانی کے لیے نہیں بھیجتا ہوں چاہے کوئی خوش رہے یا ناخوش ہوجائے۔ ہاں مدرسے‌میں ہی بغیر ناشتہ اور کھانے کے ایصالِ ثواب کروادیتا‌ہوں۔

جو کام بدعتی کرتے ہیں وہی کام ہم کریں تو فرق کیا رہا؟

No comments:

Post a Comment