احکامِ ذی الحجہ
(تیسری قسط)
🖊️ *زین العابدین قاسمی*
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
عیدین کا آغاز:
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
قَدِمَ النَّبِیُّﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فَقَالَ: مَاھٰذَانِ الْیَوْمَانِ؟ قَالُوْا: نَلْعَبُ فِیْھِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ: قَدْ اَبْدَلَکُمُ اللہُ بِھِمَا خَیْرًا مِنْھُمَا یَوْمَ الْاَضْحیٰ وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔ (رواہ ابوداؤد)
ترجمہ: رسول اللہﷺ (مکہ سے ہجرت فرماکر) مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے (جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کرچکی تھی) دو تہوار منایا کرتے تھے، اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا: یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے) انھوں نے عرض کیا: ہم زمانۂ جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے، (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمھارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمھارے لیے مقرر کردئے ہیں (اب وہی تمھارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں )یوم عید الاضحیٰ اور یوم عید الفطر۔
”قوموں کے تہوار در اصل اُن کے عقائد و تصوُّرات اور ان کی تاریخ وروایات کے ترجمان اور ان کے قومی مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں؛ اس لیے ظاہر ہے کہ اسلام سے پہلے اپنی جاہلیت کے دور میں اہلِ مدینہ جو دو تہوار مناتے تھے وہ جاہلی مزاج تصورات اور جاہلی روایات ہی کے آئینہ دار ہوں گے، رسول اللہﷺ نے؛ بلکہ حدیث کے صریح الفاظ کے مطابق خود اللہ تعالیٰ نے ان قدیمی (پرانے) تہواروں کو ختم کراکے ان کی جگہ عید الفطر اور عیدالاضحیٰ دو تہوار اس امت کے لیے مقرر فرمادئےجو اس کے توحیدی مزاج اور اُصولِ حیات کے عین مطابق اور اس کی تاریخ و روایات اور عقائد و تصورات کے پوری طرح آئینہ دار ہیں۔
کاش! اگر مسلمان اپنے ان تہواروں ہی کو صحیح طور پر اور رسول اللہﷺ کی ہدایت و تعلیم کے مطابق منائیں تو اسلام کی روح اور اس کے پیغام کو سمجھنے سمجھانے کے لیے صرف یہ دو تہوار ہی کافی ہوسکتے ہیں۔“ (معارف الحدیث ۳/۲۳۹،۲۴۰)
اَیّامِ تشریق/تکبیر تشریق:
ذوالحجہ کے تین دنوں (گیارہویں، بارہویں اور تیرہویںتاریخ ) کو ”اَیّامِ تشریق“ کہا جاتا ہے۔ یوم عرفہ، یوم النحر اور ایامِ تشریق اِن پانچ دنوں میں یعنی نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیر تشریق یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدْبآواز بلند پڑھنا ہرنمازی خواہ جماعت سے پڑھنے والاہو یا تنہا، مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت سب پرواجب ہے؛البتہ عورت آہستہ کہے۔
(جاری)