Thursday, June 22, 2023

احکامِ ذی الحجہ (تیسری قسط)

احکامِ ذی الحجہ

 (تیسری قسط)

🖊️ *زین العابدین قاسمی*
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ

عیدین کا آغاز:

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
قَدِمَ النَّبِیُّﷺ الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فَقَالَ: مَاھٰذَانِ الْیَوْمَانِ؟ قَالُوْا: نَلْعَبُ فِیْھِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ: قَدْ اَبْدَلَکُمُ اللہُ بِھِمَا خَیْرًا مِنْھُمَا یَوْمَ الْاَضْحیٰ وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔ (رواہ ابوداؤد)

ترجمہ: رسول اللہﷺ (مکہ سے ہجرت فرماکر) مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے (جن کی کافی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کرچکی تھی) دو تہوار منایا کرتے تھے، اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا: یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت اور حیثیت ہے؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت اور تاریخ ہے) انھوں نے عرض کیا: ہم زمانۂ جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے، (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمھارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمھارے لیے مقرر کردئے ہیں (اب وہی تمھارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں )یوم عید الاضحیٰ اور یوم عید الفطر۔

”قوموں کے تہوار در اصل اُن کے عقائد و تصوُّرات اور ان کی تاریخ وروایات کے ترجمان اور ان کے قومی مزاج کے آئینہ دار ہوتے ہیں؛ اس لیے ظاہر ہے کہ اسلام سے پہلے اپنی جاہلیت کے دور میں اہلِ مدینہ جو دو تہوار مناتے تھے وہ جاہلی مزاج تصورات اور جاہلی روایات ہی کے آئینہ دار ہوں گے، رسول اللہﷺ نے؛ بلکہ حدیث کے صریح الفاظ کے مطابق خود اللہ تعالیٰ نے ان قدیمی (پرانے) تہواروں کو ختم کراکے ان کی جگہ عید الفطر اور عیدالاضحیٰ دو تہوار اس امت کے لیے مقرر فرمادئےجو اس کے توحیدی مزاج اور اُصولِ حیات کے عین مطابق اور اس کی تاریخ و روایات اور عقائد و تصورات کے پوری طرح آئینہ دار ہیں۔

 کاش! اگر مسلمان اپنے ان تہواروں ہی کو صحیح طور پر اور رسول اللہﷺ کی ہدایت و تعلیم کے مطابق منائیں تو اسلام کی روح اور اس کے پیغام کو سمجھنے سمجھانے کے لیے صرف یہ دو تہوار ہی کافی ہوسکتے ہیں۔“ (معارف الحدیث ۳/۲۳۹،۲۴۰)

اَیّامِ تشریق/تکبیر تشریق:

 ذوالحجہ کے تین دنوں (گیارہویں، بارہویں اور تیرہویںتاریخ ) کو ”اَیّامِ تشریق“ کہا جاتا ہے۔ یوم عرفہ، یوم النحر اور ایامِ تشریق اِن پانچ دنوں میں یعنی نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں ذوالحجہ کی عصر تک ہر نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیر تشریق یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدْبآواز بلند پڑھنا ہرنمازی خواہ جماعت سے پڑھنے والاہو یا تنہا، مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت سب پرواجب ہے؛البتہ عورت آہستہ کہے۔

(جاری)

Monday, June 19, 2023

अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा किस तरह गुजारें?

अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा किस तरह गुज़ारें?

जैनुल आबिदीन क़ासमी
ख़ादिम जामिया क़ासमिया अशरफ़ुल उलूम नवाबगंज अलियाबाद जि० बहराइच यू०पी० 
9670660363


आज दिनांक 30 जून 2022 ई० को इस्लामी/हिज्री कैलेंडर के आख़िरी और बारहवें महीना ज़ुल्हिज्जा का चांद निकल आया है, इस महीने की 1 तारीख़ से 10 तारीख़ तक को अशरा-ए-ज़िल्हज्जा कहते हैं, अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा की बाबरकत और फ़ज़ीलत वाली साअतें शुरू हो चुकी हैं, जैसा कि क़ुरआन व हदीस की रोशनी में इन दस दिनों की फ़ज़ीलतैं आई हैं, सबसे बड़ी फ़ज़ीलत तो यही है कि इन दस दिनों के अंदर किया जाने वाला हर नेक अमल अल्लाह तआला को बहुत महबूब और पसंदीदा है; लिहाज़ा अब हम सबको चाहिए कि नेक अमल की कसरत शुरू कर दें।

⚫ सबसे पहले तो ये तै करलें कि पांचों नमाज़ैं बा जमाअत अदा करने का एहतिमाम करेंगे, इस के लिए मस्जिद जल्दी पहुंचने की कोशिश करें ताकि तक्बीरे ऊला ही से इमाम के साथ शरीक रहें।

⚫ सुन्नते मुअक्कदा व सुन्नते ग़ैर मुअक्कदा और नवाफ़िल का भी एहतिमाम करें, जिन नमाज़ों के बाद दो रकातैं नफ़्ल पढ़ते थे तो अब नफ़्ल की रकातों को दो से बढ़ा लें, कम से कम चार या छः या आठ या जिस क़दर हो सके पढ़ें।

⚫ तहज्जुद की नमाज़ पढ़ने का एहतिमाम ज़रूर करें, नीज़ इशराक़, चाश्त, औव्वाबीन की नमाज़ों का भी एहतिमाम करें।

⚫ वुज़ू घर या दूकान पर बनाएं और वहीं दो रकात तहिय्यतुल वुज़ू पढ़ें, फिर मस्जिद पहुंच कर दो रकात तहिय्यतुल मस्जिद पढ़ें।

⚫ मस्जिद पहुंचने के बाद तहिय्यतुल मस्जिद और सुन्नत पढ़ कर फ़ारिग़ हो‌ जाएं और जमाअत खड़ी होने में अभी वक़्त बाक़ी हो तो तस्बीह (सुब्हानल्लाहि व बिहम्दिही  सुब्हानल्लाहिल ज़ीम), इस्तिग़फ़ार (अस्तग़्फ़िरुल़्लाहल्लज़ी ला इला ह इल्ला हुवल हय्युल क़ैय्यूम  व अतूबु इलैह) और दुरूद शरीफ़ पढ़ते रहें।

⚫ हर नमाज़ से पहले और बाद में थोड़ी देर क़ुरआने करीम पढ़ने का मामूल बना लें।

⚫ क़ुरआने करीम इस कसरत से पढ़ें कि दस दिनों के अंदर कम से कम एक बार पूरा क़ुरआन ख़त्म कर दें, या फिर जितना भी हो सके पढ़ें।

⚫ हर वक़्त बावुज़ू रहने की कोशिश करें, जब भी वुज़ू टूटे तो फौरन वुज़ू बना लें, नमाज़ का वक़्त आने का इंतिज़ार न करें।

⚫ हर ख़ाली वक़्त में ज़ुबान पर तस्बीह, इस्तिग़फ़ार, दुरूद शरीफ़ जारी रहे।

⚫ हस्बे हैसियत सदक़ा ख़ैरात करते रहें।

⚫ ग़रीबों, मुहताजों, ज़रूरतमंदों की ख़बरगीरी करते रहें। (इस इंतिज़ार में न रहें कि कोई मांगने वाला आए तब दूं; बल्कि ख़ुद पता लगाने की कोशिश करें कि कौन ज़रूरतमंद है? किस को किस चीज़ की ज़रूरत है?

⚫ अपनी मस्जिदों के इमाम व मुअज़्ज़िन, मदरसों/मक्तबों में पढ़ाने वाले उलमा व  हुफ़्फ़ाज़ को हदया व तोहफ़ा भी देने की कोशिश करें।

⚫ गुनाहों से दूर रहने की पूरी कोशिश करें।

⚫ हमारे जिस्म के जिन आज़ा से गुनाह ज़्यादा सादिर होते हैं उनके इस्तिमाल में काफ़ी एहतियात बरतें। जैसे आँख, कान, ज़ुबान वग़ैरा।

⚫ पहली तारीख़ से लेकर नवीं तारीख़ तक जितने दिन भी हो सके रोज़ा रखें, ख़ुसूसन नवीं तारीख़ यानी अरफ़ा के दिन ज़रूर रोज़ा रखें।

⚫ ज़ुल्हिज्जा की पहली रात से लेकर दसवीं रात तक हर रात में जितनी देर भी हो सके इबादत करें।

⚫ अगर रात के आख़िरी हिस्से में जागना आसान हो तो इशा पढ़ कर फौरन सो जाएं और रात के आख़िरी हिस्सा में उठ कर इबादत में मसरूफ़ होजाएं; क्यूंकि रात का आख़िरी हिस्सा बहुत क़ीमती होता है, उस वक़्त इबादत करने वालों से अल्लाह बहुत ख़ुश होते हैं। और अगर आख़िरी हिस्सा में जागना दुशवार हो तो इशा के बाद ही जितनी देर भी हो सके इबादत में मशग़ूल रहें फिर सो जाएं।

⚫ माँ बाप की ख़िदमत करते रहें, उनको हर तरह से आराम पहुंचाने की कोशिश करें, उनकी किसी बात का जवाब इस तरह हरगिज़ ना दें कि उनको मामूली तकलीफ़ भी पहुंचे।

⚫ पड़ोसी के साथ अच्छा सुलूक करें, हमारे घर में कोई अच्छी चीज़ बने तो थोड़ा सा पड़ोसी के घर भी भेजवा दें।

⚫ हर एक के साथ अच्छे अख़्लाक़ से पेश आएं।

⚫ हमारे साथ कोई बुरा सुलूक करे तब भी हम उस के साथ अच्छा बरताव ही करें।

⚫ सच्चाई और दयानतदारी के साथ तिजारत और कारोबार करें।

अल्लाह तआला हम सबको अमल की तौफ़ीक़ अता फरमाए। आमीन

عشرۂ ذی الحجہ کیسے گذاریں؟

عشرۂ ذی الحجہ کس طرح گذاریں؟

زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
9670660363

آج مؤرخہ ۱۹/ جون۲۰۲۳؁ء کو اسلامی/ہجری کیلنڈر کے آخری اور بارہویں مہینہ ذوالحجہ کا چاند نکل آیا ہے، عشرۂ ذی الحجہ کی بابرکت اور فضیلت والی ساعتیں شروع ہوچکی ہیں، جیسا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اِن دس دنوں کی فضیلتیں آئی ہیں، سب سے بڑی فضیلت تو یہی ہے کہ ان دس دنوں کے اندر کیا جانے والا ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے؛ لہذا اب ہم سب کو چاہیے کہ نیک عمل کی کثرت شروع کردیں۔

۞ سب سے پہلے تو یہ طے کرلیں کہ پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں گے، اس کے لیے مسجد جلدی پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ تکبیر اولیٰ ہی سے امام کے ساتھ شریک رہیں۔

۞سنت مؤکدہ و سنت غیر مؤکدہ اور نوافل کا بھی اہتمام کریں، جن نمازوں کے بعد دو رکعتیں نفل پڑھتے تھے تو اب نفل کی رکعتوں کو دو سے بڑھالیں، کم سے کم چار یا چھ یا آٹھ یا جس قدر ہوسکے پڑھیں۔

۞ تہجد کی نماز پڑھنے کا اہتمام ضرور کریں، نیز اشراق، چاشت، اوّابین کی نمازوں کا بھی اہتمام کریں۔

۞ وضو گھر یا دوکان پر بنائیں اور وہیں دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں، پھر مسجد پہنچ کر دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھیں۔

۞مسجد پہنچنے کے بعدتحیۃ المسجد اور سنت پڑھ کر فارغ ہوجائیں اور جماعت کھڑی ہونے میں ابھی وقت باقی ہو تو تسبیح (سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم )، استغفار (اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاتُوْبُ اِلَیْہِ)اور درود شریف پڑھتے رہیں۔

۞ ہر نماز سے پہلے اور بعد میں تھوڑی دیر قرآن کریم پڑھنے کا معمول بنالیں۔

۞ قرآن کریم اس کثرت سے پڑھیں کہ دس دنوں کے اندر کم از کم ایک بار پورا قرآن ختم کردیں، یا پھر جتنا بھی ہوسکے پڑھیں۔

۞ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کریں، جب بھی وضو ٹوٹے تو فورا وضو بنالیں، نماز کا وقت آنے کا انتظار نہ کریں۔

۞ہرخالی وقت میں زبان پر تسبیح، استغفار، درود شریف جاری رہے۔
۞ حسبِ حیثیت صدقہ خیرات کرتے رہیں۔

۞ غریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں کی خبر گیری کرتے رہیں۔ (اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی مانگنے والاآئے تب دوں؛ بلکہ خود پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ کون ضرورت مند ہے؟ کس کو کس چیز کی ضرورت ہے؟)

۞ اپنی مسجدوں کے امام و مؤذن، مدرسوں/مکتبوں میں پڑھانے والے علماء و حفاظ کو ہدیہ و تحفہ بھی دینےکی کوشش کریں۔

۞ گناہوں سے دور رہنے کی پوری کوشش کریں۔

۞ ہمارے جسم کے جن اعضاء سے گناہ زیادہ صادر ہوتے ہیں ان کے استعمال میں کافی احتیاط برتیں۔ جیسے: آنکھ، کان، زبان۔

۞ پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک جتنے دن بھی ہوسکے روزہ رکھیں، خصوصاً نویں تاریخ یعنی عرفہ کے دن ضرور روزہ رکھیں۔

۞ ذوالحجہ کی پہلی رات سے لے کر دسویں رات تک ہر رات میں جتنی دیر بھی ہوسکے عبادت کریں۔

۞ اگررات کے آخری حصہ میں جاگنا آسان ہو تو عشاء پڑھ کر فورا سوجائیں اور رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر عبادت میں مصروف ہوجائیں؛ کیونکہ رات کا آخری حصہ بہت قیمتی ہوتا ہے، اُس وقت عبادت کرنے والوں سے اللہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر آخری حصہ میں جاگنا دشوار ہو تو عشاء کے بعد ہی جتنی دیر بھی ہوسکے عبادت میں مشغول رہیں پھر سوجائیں۔

۞ ماں باپ کی خدمت کرتے رہیں، ان کو ہر طرح سے آرام پہنچانے کی کوشش کریں، ان کی کسی بات کا جواب اس طرح ہرگز نہ دیں کہ ان کو معمولی تکلیف بھی پہنچے۔

۞ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ہمارے گھر میں کوئی اچھی چیز بنے تو تھوڑا سا پڑوسی کے گھر بھی بھیجوادیں۔

۞ ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔

۞ ہمارے ساتھ کوئی برا سلوک کرے تب بھی ہم اس کے ساتھ اچھا برتاؤ ہی کریں۔

۞ سچائی اور دیانتداری کے ساتھ تجارت اور کاروبار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Saturday, June 17, 2023

अहकामे ज़िल्हिज्जा (दूसरी क़िस्त)

अहकामे ज़िल्हिज्जा
(दूसरी क़िस्त)

🖊️ ज़ैनुल आबिदीन क़ासमी
ख़ादिम जामिया क़ासमिया अशरफ़ुल उलूम नवाबगंज अलियाबाद ज़िला बहराइच यू०पी०
9670660363

यौमे अरफ़ा और उस की फ़ज़ीलत:

ज़ुल्हिज्जा की नवीं तारीख़ को “यौमे अरफ़ा” कहा जाता है, इस दिन रोज़ा रखना मुस्तहब है और उस की फ़ज़ीलत ये है कि इस से दो साल के गुनाह मुआफ़ हो जाते हैं।

नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया:

“अरफ़ा के दिन का रोज़ा; बेशक मैं अल्लाह तआला से सवाब की उम्मीद बाँधता हूँ कि वह मिटा देंगे उस साल (के गुनाहों) को जो बाद में आने वाला है और उस साल (के गुनाहों) को जो गुज़र चुका है।(यानी एक साल अगले और एक साल पिछले के गुनाहों को मिटा देंगे।” (मुस्लिम , तिर्मिज़ी)

यौमुन्नह्र/यौमुल अज़्हा :

ज़ुल्हिज्जा की दसवीं तारीख़ को “यौमुन्नह्र, यौमुल अज़्हा” यानी क़ुर्बानी का दिन और “ईदुल अज़्हा, ईदे कुर्बाँ और बक़रईद” कहा जाता है। इसी दिन दूसरी ईद यानी ईदुल्अज़्हा मनाई जाती है, और यह दिन मुस्लमानों का दूसरा मज़्हबी (धार्मिक) त्योहार है।

इस्लामी त्योहार; ईदुल फ़ित्र और ईदुल अज़्हा:

रसूलुल्ला सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का इरशाद है:

“हर क़ौम की (कोई न कोई) ईद होती है और हमारी ईद यह है।” (बुख़ारी)

हज़रत मौलाना मुहम्मद मन्ज़ूर नोमानी रहि० तहरीर फ़रमाते हैं:
“हर क़ौम के कुछ ख़ास त्योहार और जश्न के दिन होते हैं, जिनमें उस क़ौम के लोग अपनी अपनी हैसियत और सतह के मुताबिक़ अच्छा लिबास पहनते और उम्दा खाने पकाते और खाते हैं, और दूसरे तरीक़ों से भी मुसर्रत ख़ुशी का इज़्हार करते हैं, यह गोया इन्सानी फ़ित्रत का तक़ाज़ा है; इसी लिए इन्सानों का कोई तब्क़ा और फ़िर्क़ा ऐसा नहीं है जिसके यहाँ त्योहार और जश्न के कुछ ख़ास दिन ना हों।
इस्लाम में भी ऐसे दो दिन रखे गए हैं; एक ईदुल फ़ित्र और दूसरे ईदुल अज़्हा, बस यही मुस्लमानों के असली मज़्हबी व मिल्ली त्योहार हैं। इनके इ
अलावा मुस्लमान जो त्योहार मनाते हैं उनकी कोई मज़्हबी हैसियत और बुनियाद नहीं है; बल्कि इस्लामी नुक़्ता-ए-नज़र से उनमें से अक्सर ख़ुराफ़ात हैं।
मुस्लमानों की इज्तिमाई ज़िंदगी उस वक़्त से शुरू होती है जब कि रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम हिजरत फ़रमा कर मदीना तैय्यबा आए। ईदुल फ़ित्र और ईदुल अज़्हा, इन दोनों त्योहारों का सिलसिला भी उसी वक़्त से शुरू हुआ है। जैसा कि मालूम है ईदुल फ़ित्र रमज़ानुल मुबारक के ख़त्म होने पर पहली शव्वाल को मनाई जाती है और ईदुल अज़्हा 10 ज़ुल्हिज्जा को। रमज़ानुल मुबारक दीनी व रूहानी हैसियत से साल के बारह महीनों में सबसे मुबारक महीना है, इसी महीने में क़ुरआने मजीद नाज़िल होना शुरू हुआ, इसी पूरे महीने के रोज़े उम्मते मुस्लिमा पर फ़र्ज़ किए गए, इस की रातों में एक मुस्तक़िल बाजमाअत नमाज़ (तरावीह) का इज़ाफ़ा किया गया है, और हर तरह की नेकियों में इज़ाफ़ा की तर्ग़ीब दी गई । उल-ग़र्ज़ यह पूरा महीना ख़्वाहिशात की क़ुर्बानी और मुजाहिदा का और हर तरह की ताआत व इबादात की कसरत का महीना क़रार दिया गया, ज़ाहिर है कि इस महीने के ख़ातमे पर जो दिन आए ईमानी व रूहानी बरकतों के लिहाज़ से वही सबसे ज़्यादा इस का मुस्तहिक़ है कि इस को इस उम्मत के जश्न व मुसर्रत का दिन और त्योहार बनाया जाये, चुनांचे उसी दिन को ईदुल फ़ित्र क़रार दिया गया।
और 10 ज़ुल्हिज्जा वो मुबारक तारीख़ी दिन है जिसमें उम्मते मुस्लिमा के मुअस्सिस व मूरिसे आला सय्यिदुना हज़रत इब्राहीम ख़लीलुल्ला अलैहिस्सलाम ने अपनी दानिस्त में अल्लाह तआला का हुक्म व इशारा पा कर अपने लख़्ते जिगर सय्यिदुना इस्माईल अलैहिस्सलाम को उनकी रजामंदी से क़ुर्बानी के लिए अल्लाह के हुज़ूर में पेश करके और उनके गले पर छुरी रखकर अपनी सच्ची वफ़ादारी और कामिल तस्लीम व -रज़ा का सुबूत दिया था और अल्लाह तआला ने इश्क़ व मुहब्बत और क़ुर्बानी के इस इम्तिहान में उनको कामयाब क़रार देकर हज़रत इस्माईल अलैहिस्सलाम को ज़िंदा व सलामत रखकर उनकी जगह एक जानवर की क़ुर्बानी क़बूल फ़रमा ली थी, और हज़रत इब्राहीम अलैहिस्सलाम के सर पर (मैं तुमको लोगों का पेशवा बनाऊँगा) का ताज रख दिया था, और उनकी इस अदा की नक़ल को क़ियामत तक के लिए “रस्मे आशिक़ी” क़रार दे दिया था, पस अगर कोई दिन किसी अज़ीम तारीख़ी वाक़िआ की यादगार की हैसियत से त्योहार क़रार दिया जा सकता है तो इस उम्मते मुस्लिमा के लिए जो मिल्लते इब्राहीमी की वारिस और उस्वा-ए-खलीली की नुमाइंदा है 10 ज़ुल्हिज्जा के दिन के मुक़ाबले में कोई दूसरा दिन उस का मुस्तहिक़ नहीं हो सकता; इसलिए दूसरी ईद 10 ज़ुल्हिज्जा को क़रार दिया गया। जिस वादी ग़ैर ज़ी ज़रा (बे-आबो ग्याह) मैं हज़रत इस्माईल अलैहिस्सलाम की क़ुर्बानी का ये वाक़िआ पेश आया था उसी वादी में पूरे आलमे इस्लामी का हज का सालाना इज्तिमा और उस के मनासिके क़ुर्बानी वग़ैरा इस वाक़िआ की गोया असल और अव़्वल दर्जे की यादगार है, और हर इस्लामी शहर और बस्ती में ईद उल अज़्हा की तक़रीबात नमाज़ और क़ुर्बानी वगैरह भी इसी की गोया नक़्ल और दोम दर्जा की यादगार है। बहरहाल इन दोनों (पहली शव्वाल और १० ज़िल्हिज्जा) की इन ख़सूसिय्यात की वजह से इन को यौमुल ईद और उम्मते मुस्लिमा का त्योहार क़रार दिया गया।(मआरिफ़ुल हदीस हिस्सा सोम पेज न० 237,0293)

हज़रतुल उस्ताज़ मुफ़्ती सईद अहमद पालन पूरी साबिक़ शैख़ुल हदीस दारुल उलूम देवबंद फ़रमाते हैं:

“दुनिया में हर क़ौम के लिए ख़ुशी का कोई दिन होता है, अल्लाह अज़् ज़ व जल्ल ने इस उम्मत के लिए ख़ुशी के दो दिन मुक़र्रर किए हैं: ईदुल अज़्हा और ईदुल फ़ित्र, मगर मुस्लमानों का तरीक़ा दीगर अक़्वाम से मुख़्तलिफ़ है, इस्लाम ने ख़ुशी के दिनों में भी सबसे पहला काम इबादत मुक़र्रर किया है, दूसरी कौमें ख़ुशी के दिनों में शोर शराबा करती हैं, वो कोई इबादत नहीं करतीं, हम सबसे पहले दोगाना अदा करते हैं.......फिर चूँकि ये दोनों दिन सुरूर इंबिसात (ख़ुशी) के दिन हैं इसलिए दीगर ख़ुशी के काम भी जाएज़ हैं; बल्कि ऐसे काम जो गूना मुनासिब नहीं उन से भी सर्फ़े नज़र की जाती है।” (तोहफ़तुल क़ारी शरह बुख़ारी जिल्द 3 पेज 280)

(जारी)

احکامِ ذی الحجہ (دوسری قسط)

احکامِ ذی الحجہ
(دوسری قسط)

🖊️ زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ یوپی

یومِ عَرَفَہ کی فضیلت:

 ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو ”یَومِ عَرَفَہ“ کہا جاتا ہے، اس دن روزہ رکھنا مستحب ہےاور اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس سے دوسال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا:
صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ اَنِّیْ اَحْتَسِبُ عَلَی اللہِ اَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ بَعْدَہٗ وَالسَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ۔
ترجمہ: عرفہ کے دن کا روزہ؛ بیشک میں اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید باندھتا ہوں کہ وہ مٹادیں گے اُس سال (کے گناہوں) کو جو بعد میں آنے والاہے اور اُس سال (کے گناہوں) کو جو گذر چکا ہے۔(یعنی ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کے گناہوں کو مٹادیں گے) (مسلم ، ترمذی)

یومُ النحّر/یومُ الاَضحٰی :

 ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو ”یومُ النّحر،یومُ الاَضحٰی‘‘ یعنی قربانی کا دن اور ”عیدُ الاضحی،عید قُرباں اوربقرعید“ کہا جاتا ہے۔اسی دن دوسری عید یعنی عید الاضحیٰ منائی جاتی ہے، اور یہ دن مسلمانوں کا دوسرا مذہبی تہوار ہے۔

اسلامی تہوار؛عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ:

رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَھٰذَا عِیْدُنَا۔ (رواہ البخاری)
ترجمہ: ہر قوم کی (کوئی نہ کوئی) عید ہوتی ہے اور ہماری عید یہ ہے۔ (بخاری)
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ تحریر فرماتے ہیں:
”ہر قوم کے کچھ خاص تہوار اور جشن کے دن ہوتے ہیں، جن میں اُس قوم کے لوگ اپنی اپنی حیثیت اور سطح کے مطابق اچھا لباس پہنتے اور عمدہ کھانے پکاتے اور کھاتے ہیں، اور دوسرے طریقوں سے بھی مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہیں یہ گویا انسانی فطرت کا تقاضا ہے؛ اسی لیے انسانوں کا کوئی طبقہ اور فرقہ ایسا نہیں ہے جس کے یہاں تہوار اور جشن کے کچھ خاص دن نہ ہوں۔اسلام میں بھی ایسے دو دن رکھے گئے ہیں؛ ایک عیدالفطر اور دوسرے عیدالاضحی، بس یہی مسلمانوں کے اصلی مذہبی و ملّی تہوار ہیں۔ ان کے علاوہ مسلمان جو تہوار مناتے ہیں ان کی کوئی مذہبی حیثیت اور بنیاد نہیں ہے؛ بلکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ان میں سے اکثر خرافات ہیں۔
مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ ہجرت فرماکر مدینہ طیبہ آئے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی ان دونوں تہواروں کا سلسلہ بھی اُسی وقت سے شروع ہواہے۔جیسا کہ معلوم ہے عیدالفطر رمضان المبارک کے ختم ہونے پر یکم شوال کومنائی جاتی ہے اور عیدالاضحی ۱۰/ ذوالحجہ کو۔رمضان المبارک دینی وروحانی حیثیت سے سال کے بارہ مہینوں میں سب سے مبارک مہینہ ہے، اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، اسی پورے مہینے کے روزے امت مسلمہ پر فرض کیے گئے، اس کی راتوں میں ایک مستقل باجماعت نماز(تراویح) کا اضافہ کیا گیا ہے، اور ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کی ترغیب دی گئی ۔ الغرض یہ پورا مہینہ خواہشات کی قربانی اور مجاہدہ کا اور ہر طرح کی طاعات و عبادات کی کثرت کا مہینہ قرار دیاگیا، ظاہر ہے کہ اس مہینے کے خاتمہ پر جو دن آئے ایمانی وروحانی برکتوں کے لحاظ سے وہی سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اس امت کے جشن و مسرت کا دن اور تہوار بنایاجائے، چنانچہ اسی دن کو عیدالفطر قرار دیا گیا۔
 اور ۱۰/ ذوالحجہ وہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں امت مسلمہ کے مُؤسِّس و مُورِثِ اعلیٰ سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی دانست میں اللہ تعالیٰ کا حکم و اشارہ پا کر اپنے لخت جگر سیدنااسماعیل علیہ السلام کو ان کی رضامندی سے قربانی کے لیے اللہ کے حضور میں پیش کرکے اور ان کے گلے پر چھری رکھ کر اپنی سچی وفاداری اور کامل تسلیم و رضا کا ثبوت دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے عشق و محبت اور قربانی کے اس امتحان میں ان کو کامیاب قرار دے کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زندہ و سلامت رکھ کر ان کی جگہ ایک جانور کی قربانی قبول فرمالی تھی، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سر پر ”اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا“ (میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا) کا تاج رکھ دیا تھا، اور ان کی اس ادا کی نقل کو قیامت تک کے لیے “رسمِ عاشقی“ قرار دے دیا تھا، پس اگر کوئی دن کسی عظیم تاریخی واقعہ کی یادگار کی حیثیت سے تہوار قرار دیا جاسکتا ہے تو اس امت مسلمہ کےلیے جو مِلَّتِ ابراہیمی کی وارث اور اُسوۂ خلیلی کی نمائندہ ہے ۱۰/ ذی الحجہ کے دن کے مقابلے میں کوئی دوسرا دن اس کا مستحق نہیں ہوسکتا؛ اس لیے دوسری عید ۱۰/ ذی الحجہ کو قرار دیا گیا۔جس وادی غیر ذِی زَرع(بے آب و گیاہ) میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا اُسی وادی میں پورے عالَمِ اسلامی کا حج کا سالانہ اجتماع اور اُس کے مَناسِک قربانی وغیرہ اس واقعہ کی گویا اصل اور اوّل درجے کی یادگار ہے، اور ہراسلامی شہر اور بستی میں عیدالاضحیٰ کی تقریبات نماز اور قربانی وغیرہ بھی اسی کی گویا نقل اور دوم درجہ کی یادگار ہے۔ بہرحال ان دونوں (یکم شوال اور ۱۰/ ذی الحجہ) کی ان خصوصیات کی وجہ سے ان کو یومُ العید اور امت مسلمہ کا تہوار قرار دیاگیا۔“(معارف الحدیث حصہ سوم صفحہ ۲۳۸،۲۳۹)
حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
”دنیامیں ہر قوم کے لیے خوشی کا کوئی دن ہوتا ہے ، اللہ عزّ وجلّ نے اس امت کے لیے خوشی کے دو دن مقرر فرکیے ہیں: عیدا لاضحیٰ اور عید الفطر، مگر مسلمانوں کا طریقہ دیگر اَقوام سے مختلف ہے، اسلام نے خوشی کے دنوں میں بھی سب سے پہلا کام عبادت مقرر کیا ہے، دوسری قومیں خوشی کے دنوں میں شور شرابا کرتی ہیں، وہ کوئی عبادت نہیں کرتیں، ہم سب سے پہلے دوگانہ اداکرتے ہیں۔۔۔۔۔پھر چونکہ یہ دونوں دن سُرور و انبساط (خوشی) کے دن ہیں اس لیے دیگر خوشی کے کام بھی جائز ہیں؛ بلکہ ایسے کام جو گونہ مناسب نہیں اُن سے بھی صرفِ نظر کی جاتی ہے۔“ (تحفۃ القاری شرح بخاری جلد ۳ ص۲۸۰)
(جاری)

Friday, June 16, 2023

अहकामे ज़िल्हिज्जा

अहकामे ज़िल्हिज्जा

(पहली क़िस्त)

🖊️ ज़ैनुल आबिदीन क़ासमी
ख़ादिम जामिया क़ासमिया अशरफ़ुल उलूम नवाबगंज अलियिबाद ज़िला बहराइच
9670660363

ज़ुल्हिज्जा:

इस्लामी/हिज्री कैलेंडर का बारहवाँ और आख़िरी महीना ज़ुल्हिज्जा है, यह महीना उन तीन महीनों में से एक है जिनको “अश्हुरे हज” (हज के महीने) कहा जाता है।

फ़ायदा: शव्वाल, ज़ुल्क़ादा और ज़ुल्हिज्जा के दस दिन“अश्हुरे हज” (हज के महीने) कहे जाते हैं।

इसी तरह ज़ुल्हिज्जा उन चार महीनों में से एक है जिनको “अश्हुरे हुरुम” (अज़्मत व हुर्मत वाले महीने) कहा जाता है।

फ़ायदा: ज़ुल्क़ादा, ज़ुल्हिज्जा, मुहर्रम और रजब “अश्हुरे हुरुम” (अज़्मत व हुर्मत वाले महीने) कहे जाते हैं।

ज़ुल्हिज्जा के महीने से इस्लाम की तीन ऐसी इबादतें मुतअल्लिक़ हैं जो साल में एक बार और इसी महीने में आती हैं।

एक तो इस्लाम का आख़िरी और तक्मीली रुक्न “हज”
दूसरी “नमाज़े ईदुल अज़्हा”
और तीसरी “क़ुर्बानी” है।

अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा:

इस महीना के शुरू वाले दस दिनों यानी पहली तारीख़ से दस तारीख़ तक को “अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा” कहा जाता है , इन दस दिनों को ख़ास फ़ज़ीलत हासिल है।

क़ुरआने करीम के तीसवें पारे की सूरह-ए-फ़ज्र में इन दस रातों की क़सम खाई गई है:

हज़रत मौलाना अशरफ़ अली थानवी (रहि०) इस आयते करीमा का तफ़्सीरी तर्जुमा यूं फ़रमाते हैं:

“क़सम है फ़ज्र (के वक़्त) की, और (ज़िल्हिज्जा की) दस रातों (यानी दस तारीख़ों) की (कि वो निहायत फ़ज़ीलत वाली हैं...) और जुफ़्त की और ताक़ की (जुफ़्त से मुराद दसवीं तारीख़ ज़िल्हिज्जा की और ताक़ से नवीं तारीख़...)” (तफ़्सीर बयानुल क़ुरआन जिल्द 3 पेज 654)

हज़रत मुफ़्ती मुहम्मद शफ़ी उस्मानी साहब (रहि०) इस आयते करीमा की तफ़्सीर में फ़रमाते हैं:

“लयालिन अश॒र् यानी दस रातें, हज़रत इब्ने अब्बास रज़ि०, क़तादा, मुजाहिद, सुद्दी, ज़ह्हाक, कल्बी अइम्मा-ए-तफ़्सीर के नज़्दीक ज़िल्हिज्जा की इब्तिदाई दस रातें मुराद हैं; क्यूंकि हदीस में इनकी बड़ी फ़ज़ीलत आई है ........ और अबुज़्ज़बैर ने हज़रत जाबिर रज़ि० से रिवायत किया है कि ख़ुद रसूलुल्ला सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने व ल यालिन अश॒र् की तफ़्सीर में फ़रमाया कि इस से मुराद अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा है।”(मआरिफ़ुल क़ुरआन 8/739)

हज़रत मुफ़्ती मुहम्मद तक़ी उस्मानी साहब फ़रमाते हैं:

“और दस रातों से मुराद ज़ुल्हिज्जा के महीने की पहली दस रातें हैं जिनको अल्लाह तआला ने ख़ुसूसी तक़द्दुस अता फ़रमाया है, और
उस में इबादत का बहुत सवाब है। जुफ़्त से मुराद 10 ज़ुल्हिज्जा का दिन और ताक़ से मुराद अर्फ़े का दिन है जो 9/ज़ुल्हिज्जा को आता है। इन अय्याम (दिनों) की क़सम खाने से उनकी अहमियत और फ़ज़ीलत की तरफ़ इशारा है।” (आसान तर्जुमा-ए-क़ुरआन 3/1922)

हदीस शरीफ़ में भी इन दस दिनों की बड़ी फ़ज़ीलत आई है:

हज़रत इब्ने अब्बास रज़ि० से रिवायत है कि रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया:

“नहीं है कोई भी दिन जिस में नेक अमल अल्लाह तआला को ज़्यादा पसंद हो इन दस दिनों से (यानी अल्लाह तआला को सबसे ज़्यादा पसंद इन दस दिनों के आमाल हैं; अल्बत्ता इस से रमज़ान मुस्तस्ना (अलग) है, जैसे बअज़ हदीसों में नवाफ़िल की फ़ज़ीलत आई है उनसे फ़र्ज़ वाजिब और सुनने मुअक्कदा मुस्तस्ना हैं) लोगों ने पूछा: ऐ अल्लाह के रसूल! अल्लाह के रास्ते में जिहाद करना भी? (यानी इन दस दिनों के अलावा दिनों में अगर अल्लाह के रास्ते में जिहाद किया जाये तो क्या वो भी अल्लाह को ज़्यादा पसंद नहीं? रसूलुल्ला सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया: अल्लाह के रास्ते में जिहाद करना भी, मगर यह कि कोई शख़्स अपनी जान और अपने माल के साथ निकले और उनमें से कुछ भी लेकर वापस ना आए (यानी शहीद हो जाए तो उस का जिहाद अशरा-ए-ज़िल्हज्जा के अमल से अफ़्ज़ल होगा, रहा वो मुजाहिद जो जिहाद से सही सलामत वापस आ गया या दूसरे के तआवुन से जिहाद में गया और शहीद हो गया तो उस का जिहाद इन दस दिनों के अमल से अफ़्ज़ल नहीं होगा)।” (तोहफ़तुल अल्मई शरह तिर्मिज़ी जिल्द 3 पेज 131)

हज़रत मौलाना मन्ज़ूर नोमानी रहि० तहरीर फ़रमाते हैं:

“जिस तरह अल्लाह तआला ने हफ़्ता के सात दिनों में से जुमा को , और साल के बारह महीनों में से रमज़ान मुबारक को और रमज़ान के तीन अशरों में से अशरा-ए-अख़ीर यानी रमज़ान के आख़िरी दस दिनों को ख़ास फ़ज़ीलत बख़्शी है इसी तरह ज़ुल्हिज्जा के पहले अशरा (यानी शुरू के दस दिनों) को भी फ़ज़्ल-व-रहमत का ख़ास अशरा क़रार दिया है, बहर हाल यह रहमते ख़ुदावंदी का ख़ास अशरा है, इन दिनों में बन्दे का हर नेक अमल अल्लाह तआला को बहुत महबूब (पसंद) है, और उस की बड़ी क़ीमत है।” मआरिफ़ुल हदीस जिल्द 3 पेज 417/418)

एक दूसरी हदीस में आँहज़रत सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया:

“किसी भी दिन में इबादत करना अल्लाह को इतना महबूब (पसंदीदा) नहीं जितना अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा में इबादत करना महबूब है। (यानी इन दिनों की इबादत अल्लाह तआला को दूसरे दिनों की इबादत से ज़्यादा महबूब है) इस अशरा के हर दिन का रोज़ा साल भर के रोज़ों के बराबर है और इस की हर रात की नफ़्लें शबे क़द्र की नफ़्लों के बराबर हैं।” (तिर्मिज़ी, इब्ने माजा)

हज़रतुल उस्ताज़ मुफ़्ती सईद अहमद पालन पूरी साबिक़ शैख़ुल हदीस दारुल उलूम देवबंद फ़रमाते हैं:

“अशरा-ए-ज़िल्हिज्जा के रोज़े बिल्इज्मा मुस्तहब हैं , और अशरा से मुराद ज़िल्हिज्जा के शुरू के नौ दिन हैं, दसवाँ दिन मुराद नहीं; इसलिए कि वो ईदुल अज़्हा का दिन है उस में रोज़ा हराम है।”
(तोहफ़तूल अल्मई 3/129,130)

(जारी)

احکامِ ذی الحجہ

احکامِ ذی الحجہ

(پہلی قسط)

🖊️ زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
9670660363

ذوالحجہ:

اسلامی/ہجری کیلنڈرکا بارہواں اور آخری مہینہ ” ذُوالْحِجَّہ “ہے، یہ مہینہ اُن تین مہینوں میں سے ایک ہے جن کو ”اَشھُرِ حج“ (حج کے مہینے) کہا جاتا ہے۔

فائدہ: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن”اَشھُرِ حج“ (حج کے مہینے) کہے جاتے ہیں۔

اِسی طرح ذوالحجہ اُن چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو ”اَشہُرِ حُرُم“ (عظمت و حرمت والے مہینے) کہا جاتا ہے۔

فائدہ: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ”اَشہُرِ حُرُم“ (عظمت و حرمت والے مہینے) کہے جاتے ہیں۔

 ذوالحجہ کے مہینے سے اسلام کی تین ایسی عبادتیں متعلق ہیں جو سال میں ایک بار اور اِسی مہینے میں آتی ہیں:

ایک تو اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ”حج“
دوسری ”نماز عید الاضحیٰ“
اور تیسری ”قربانی“ ہے۔

عشرۂ ذی الحجہ:

اس مہینہ کے شروع والے دس دنوں یعنی پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک کو ”عشرۂ ذِی الحجہ “ کہاجاتا ہے ، ان دس دنوں کو خاص فضیلت حاصل ہے۔

قرآن کریم میں ان دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالْفَجْرِ ۝ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۝ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۝ (سورۂ فجر)

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اس آیت کریمہ کا تفسیری ترجمہ یوں فرماتے ہیں:

”قسم ہے فجر (کے وقت) کی، اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں (یعنی دس تاریخوں ) کی (کہ وہ نہایت فضیلت والی ہیں۔۔۔) اور جُفت کی اور طاق کی (جفت سے مراد دسویں تاریخ ذی الحجہ کی اور طاق سے نویں تاریخ۔۔۔)“ (تفسیر بیان القرآن جلد ۳ ص ۶۵۴)

حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

”لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی دس راتیں، حضرت ابن عباسؓ، قتادہ، مجاہد، سُدّی، ضحاک، کلبی ائمۂ تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں؛ کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ ۔۔ ۔۔۔اور ابوالزبیر نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ خود رسول اللہﷺ نے وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہے۔“(معارف القرآن ۸ /۷۳۹)

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

”اور دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقَدُّس عطا فرمایا ہے، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔ جفت سے مراد ۱۰/ ذوالحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفے کا دن ہے جو ۹/ذو الحجہ کو آتا ہے۔ اِن ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔“ (آسان ترجمۂ قرآن ۳/۱۹۲۲)

 حدیث شریف میں بھی ان دس دنوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔

حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَامِنْ اَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْهِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنْ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ الْعَشْرِ، فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ! وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہﷺ: وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ، اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْئٍ۔ (رواہُ الترمذی)

ترجمہ: نہیں ہے کوئی بھی دن جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو ان دس دنوں سے (یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ان دس دنوں کے اعمال ہیں؛ البتہ اس سے رمضان مستثنیٰ ہے، جیسے بعض حدیثوں میں نوافل کی فضیلت آئی ہے ان سے فرض واجب اور سنن مؤکدہ مستثنیٰ ہیں) لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی؟ (یعنی ان دس دنوں کے علاوہ دنوں میں اگر اللہ کے راستے میں جہاد کیا جائے تو کیا وہ بھی اللہ کو زیادہ پسند نہیں؟) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی، مگر یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ نکلے اور ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے (یعنی شہید ہوجائے تو اس کا جہاد عشرۂ ذی الحجہ کے عمل سے افضل ہوگا، رہا وہ مجاہد جو جہاد سے صحیح سلامت واپس آگیا یا دوسرے کے تعاون سے جہاد میں گیا اور شہید ہوگیا تو اس کا جہاد ان دس دنوں کے عمل سے افضل نہیں ہوگا)۔ (تحفۃ الامعی شرح ترمذی ج۳ ص۱۳۱)

حضرت مولانا منظور نعمانیؒ تحریر فرماتے ہیں :
 ”جس طرح اللہ تعالی نے ہفتہ کے سات دنوں میں سے جمعہ کو ، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان مبارک کو اور رمضان کے تین عشروں میں سے عشرۂ اخیر ( یعنی رمضان کے آخری دس دنوں ) کو خاص فضیلت بخشی ہے اسی طرح ذوالحجہ کے پہلے عشرہ ( یعنی شروع کے دس دنوں) کو بھی فضل و رحمت کا خاص عشرہ قرار دیا ہے،بہر حال یہ رحمتِ خداوندی کا خاص عشرہ ہے، ان دنوں میں بندے کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو بہت محبوب (پسند) ہے، اور اس کی بڑی قیمت ہے۔( مَعَارِفُ الحدیث جلد ۳، صفحہ ۴۱۷، ۴۱۸)

 ایک دوسری حدیث میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ اَیَّامٍ اَحَبُّ اِلَی اللہِ اَنْ یُّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِّنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ وَقِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ (رواہ الترمذی وابن ماجۃ)

ترجمہ:کسی بھی دن میں عبادت کرنا اللہ کو اتنا محبوب (پسندیدہ) نہیں جتنا عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کرنا محبوب ہے۔(یعنی ان دنوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کو دوسرے دنوں کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے) اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کی نفلیں شب قدر کی نفلوں کے برابر ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)

حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:

”عشرۂ ذی الحجہ کے روزے بالاجماع مستحب ہیں ، اور عشرہ سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے نودن ہیں، دسواں دن مراد نہیں؛ اس لیے کہ وہ عید الاضحیٰ کا دن ہے اس میں روزہ حرام ہے“
(تحفۃ الالمعی ۳ / ۱۲۹، ۱۳۰)

(جاری)