احکامِ ذی الحجہ
(پہلی قسط)
🖊️ زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
9670660363
ذوالحجہ:
اسلامی/ہجری کیلنڈرکا بارہواں اور آخری مہینہ ” ذُوالْحِجَّہ “ہے، یہ مہینہ اُن تین مہینوں میں سے ایک ہے جن کو ”اَشھُرِ حج“ (حج کے مہینے) کہا جاتا ہے۔
فائدہ: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن”اَشھُرِ حج“ (حج کے مہینے) کہے جاتے ہیں۔
اِسی طرح ذوالحجہ اُن چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو ”اَشہُرِ حُرُم“ (عظمت و حرمت والے مہینے) کہا جاتا ہے۔
فائدہ: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ”اَشہُرِ حُرُم“ (عظمت و حرمت والے مہینے) کہے جاتے ہیں۔
ذوالحجہ کے مہینے سے اسلام کی تین ایسی عبادتیں متعلق ہیں جو سال میں ایک بار اور اِسی مہینے میں آتی ہیں:
ایک تو اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ”حج“
دوسری ”نماز عید الاضحیٰ“
اور تیسری ”قربانی“ ہے۔
عشرۂ ذی الحجہ:
اس مہینہ کے شروع والے دس دنوں یعنی پہلی تاریخ سے دس تاریخ تک کو ”عشرۂ ذِی الحجہ “ کہاجاتا ہے ، ان دس دنوں کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
قرآن کریم میں ان دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (سورۂ فجر)
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اس آیت کریمہ کا تفسیری ترجمہ یوں فرماتے ہیں:
”قسم ہے فجر (کے وقت) کی، اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں (یعنی دس تاریخوں ) کی (کہ وہ نہایت فضیلت والی ہیں۔۔۔) اور جُفت کی اور طاق کی (جفت سے مراد دسویں تاریخ ذی الحجہ کی اور طاق سے نویں تاریخ۔۔۔)“ (تفسیر بیان القرآن جلد ۳ ص ۶۵۴)
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحبؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی دس راتیں، حضرت ابن عباسؓ، قتادہ، مجاہد، سُدّی، ضحاک، کلبی ائمۂ تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں؛ کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ ۔۔ ۔۔۔اور ابوالزبیر نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ خود رسول اللہﷺ نے وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہے۔“(معارف القرآن ۸ /۷۳۹)
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
”اور دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقَدُّس عطا فرمایا ہے، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔ جفت سے مراد ۱۰/ ذوالحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفے کا دن ہے جو ۹/ذو الحجہ کو آتا ہے۔ اِن ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔“ (آسان ترجمۂ قرآن ۳/۱۹۲۲)
حدیث شریف میں بھی ان دس دنوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَامِنْ اَیَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْهِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللہِ مِنْ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ الْعَشْرِ، فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ! وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہﷺ: وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ، اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْئٍ۔ (رواہُ الترمذی)
ترجمہ: نہیں ہے کوئی بھی دن جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو ان دس دنوں سے (یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ان دس دنوں کے اعمال ہیں؛ البتہ اس سے رمضان مستثنیٰ ہے، جیسے بعض حدیثوں میں نوافل کی فضیلت آئی ہے ان سے فرض واجب اور سنن مؤکدہ مستثنیٰ ہیں) لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی؟ (یعنی ان دس دنوں کے علاوہ دنوں میں اگر اللہ کے راستے میں جہاد کیا جائے تو کیا وہ بھی اللہ کو زیادہ پسند نہیں؟) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی، مگر یہ کہ کوئی شخص اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ نکلے اور ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے (یعنی شہید ہوجائے تو اس کا جہاد عشرۂ ذی الحجہ کے عمل سے افضل ہوگا، رہا وہ مجاہد جو جہاد سے صحیح سلامت واپس آگیا یا دوسرے کے تعاون سے جہاد میں گیا اور شہید ہوگیا تو اس کا جہاد ان دس دنوں کے عمل سے افضل نہیں ہوگا)۔ (تحفۃ الامعی شرح ترمذی ج۳ ص۱۳۱)
حضرت مولانا منظور نعمانیؒ تحریر فرماتے ہیں :
”جس طرح اللہ تعالی نے ہفتہ کے سات دنوں میں سے جمعہ کو ، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان مبارک کو اور رمضان کے تین عشروں میں سے عشرۂ اخیر ( یعنی رمضان کے آخری دس دنوں ) کو خاص فضیلت بخشی ہے اسی طرح ذوالحجہ کے پہلے عشرہ ( یعنی شروع کے دس دنوں) کو بھی فضل و رحمت کا خاص عشرہ قرار دیا ہے،بہر حال یہ رحمتِ خداوندی کا خاص عشرہ ہے، ان دنوں میں بندے کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو بہت محبوب (پسند) ہے، اور اس کی بڑی قیمت ہے۔( مَعَارِفُ الحدیث جلد ۳، صفحہ ۴۱۷، ۴۱۸)
ایک دوسری حدیث میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ اَیَّامٍ اَحَبُّ اِلَی اللہِ اَنْ یُّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِّنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ وَقِیَامُ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ (رواہ الترمذی وابن ماجۃ)
ترجمہ:کسی بھی دن میں عبادت کرنا اللہ کو اتنا محبوب (پسندیدہ) نہیں جتنا عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کرنا محبوب ہے۔(یعنی ان دنوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کو دوسرے دنوں کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے) اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کی نفلیں شب قدر کی نفلوں کے برابر ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)
حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
”عشرۂ ذی الحجہ کے روزے بالاجماع مستحب ہیں ، اور عشرہ سے مراد ذی الحجہ کے شروع کے نودن ہیں، دسواں دن مراد نہیں؛ اس لیے کہ وہ عید الاضحیٰ کا دن ہے اس میں روزہ حرام ہے“
(تحفۃ الالمعی ۳ / ۱۲۹، ۱۳۰)
(جاری)
No comments:
Post a Comment