کرناٹک کا حالیہ واقعہ اور ہماری ذمہ داری
یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا منظر بھی پیش کرتا ہے اور مسلمانوں کے لیے ایک سبق بھی ہے
جنوبی ہند کرناٹک کی ایک باحجاب مسلم لڑکی نے جس طرح سماج دشمن عناصر کے سامنے تن تنہا دلیرانہ انداز میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اور درجنوں بھگوا دھاریوں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئی اس سے پوری دنیا پر واضح ہوگیا کہ لڑکیاں بھی ظلم کامقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت و ہمت رکھتی ہیں، اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے عورتوں کو اسلام بھی منع نہیں کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس دلیر دوشیزہ کی چاروں طرف سے مسلمانوں نے ہمت افزائی کے صرف کلمات ہی کہنے پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ بڑی بڑی رقموں کے ذریعہ انعامات سے نواز کر اس کے حوصلے کو جلا بخشی۔
اس بہادر دوشیزہ کی وائرل ویڈیو دیکھ کر اسلامی تاریخ کے وہ واقعات ذہنوں میں تازہ ہوگئے جن کو ابھی تک کتابوں کے اوراق میں پڑھا جاتا تھا کہ ایک نقاب پوش بہادر عورت گھوڑے پر سوار چمچماتی ہوئی ننگی تلوار لیے دشمنوں کے بھیڑ میں گھستی چلی جاتی ہے اور دشمنوں پر فتح حاصل کرلیتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ واقعات آج نظروں کے سامنے ہیں۔
عورت اگرچہ فطری اور خلقی طور پر نازک ہے، مگر اس کا حوصلہ اور اس کی جرأت ہمیشہ بے مثال ہی رہی ہے۔
اس واقعہ سے اب مسلمانوں بالخصوص بڑی بڑی مسلم تنظیموں کو یہ سبق لینا چاہیے کہ ہرہر ضلع میں ایک گرلز انٹرکالج اور ایک گرلز ڈگری کالج ضرور بنوانا چاہیے جس میں اسلامی ماحول کے ساتھ عصری تعلیم کا معیاری نظم ہو؛ تاکہ مستقبل میں اِس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
جمعیۃ علمائے ہند جیسی ملکی تنظیم یہ کام بخوبی اور بآسانی کرسکتی ہے، اس کے لیے فنڈز کاانتظام کرنا کوئی مشکل کامنہیں ہے، اور اس وقت ماحول ایسا بنا ہوا ہے کہ یہ کام کرنا اور بھی بہت آسان ہوسکتا ہے، کیونکہ پورے ملک کے لوگوں کی نظریں اس واقعہ کی طرف اٹھی ہوئی ہیں۔
کاش اس واقعہ سے سبق لیا جائے!!!!!
زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
9670660363
No comments:
Post a Comment