Thursday, February 10, 2022

کرناٹک کا حالیہ واقعہ اور ہماری ذمہ داری

کرناٹک کا حالیہ واقعہ اور ہماری ذمہ داری 

یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا منظر بھی پیش کرتا ہے اور مسلمانوں کے لیے ایک سبق بھی ہے

جنوبی ہند کرناٹک کی ایک باحجاب مسلم لڑکی نے جس طرح سماج دشمن عناصر کے سامنے تن تنہا دلیرانہ انداز میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اور درجنوں بھگوا دھاریوں کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئی اس سے پوری دنیا پر واضح ہوگیا کہ لڑکیاں بھی ظلم کا‌مقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت و ہمت رکھتی ہیں، اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے عورتوں کو اسلام بھی منع نہیں کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس دلیر دوشیزہ کی چاروں طرف سے مسلمانوں نے  ہمت افزائی کے صرف کلمات ہی کہنے پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ بڑی بڑی رقموں کے ذریعہ انعامات سے نواز کر اس کے حوصلے کو جلا بخشی۔

اس بہادر دوشیزہ کی وائرل ویڈیو دیکھ کر اسلامی تاریخ کے وہ واقعات ذہنوں میں تازہ ہوگئے جن کو ابھی تک کتابوں کے اوراق میں پڑھا جاتا تھا کہ ایک نقاب پوش بہادر عورت گھوڑے پر سوار چمچماتی ہوئی ننگی تلوار لیے دشمنوں کے بھیڑ میں گھستی چلی جاتی ہے اور دشمنوں پر فتح حاصل کرلیتی ہے۔‌ایسا لگتا ہے کہ وہ واقعات آج نظروں کے سامنے ہیں۔

عورت اگرچہ فطری اور خلقی طور پر نازک ہے، مگر اس کا حوصلہ اور اس کی جرأت ہمیشہ بے مثال ہی رہی ہے۔

اس واقعہ سے اب مسلمانوں بالخصوص بڑی بڑی مسلم تنظیموں کو یہ سبق لینا چاہیے کہ ہرہر ضلع میں ایک گرلز انٹرکالج اور ایک گرلز ڈگری کالج ضرور بنوانا چاہیے جس میں اسلامی ماحول کے ساتھ عصری تعلیم کا معیاری نظم ہو؛ تاکہ مستقبل میں اِس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

جمعیۃ علمائے ہند جیسی ملکی تنظیم یہ کام بخوبی اور بآسانی کرسکتی ہے، اس کے لیے فنڈز کا‌انتظام کرنا کوئی مشکل کام‌نہیں ہے، اور اس وقت ماحول ایسا بنا ہوا ہے کہ یہ کام کرنا اور بھی بہت آسان ہوسکتا ہے، کیونکہ پورے ملک کے لوگوں کی نظریں اس واقعہ کی طرف اٹھی ہوئی ہیں۔

کاش اس واقعہ سے سبق لیا جائے!!!!! 

زین العابدین قاسمی
خادم جامعہ قاسمیہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ
9670660363

No comments:

Post a Comment